سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3783
Sunan Ibn Majah 3783
کتاب #34: کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
52: بَابُ : ثَوَابِ الْقُرْآنِ
باب: تلاوت قرآن کے ثواب کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْقُرْآنِ مَثَلُ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ , إِنْ تَعَاهَدَهَا صَاحِبُهَا بِعُقُلِهَا أَمْسَكَهَا عَلَيْهِ , وَإِنْ أَطْلَقَ عُقُلَهَا ذَهَبَتْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جب تک مالک اسے باندھ کر دیکھ بھال کرتا رہے گا تب تک وہ قبضہ میں رکھے گا ، اور جب اس کی رسی کھول دے گا تو وہ بھاگ جائے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3783]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لیے حافظ قرآن کو چاہئے کہ وہ پابندی سے قرآن کریم کی تلاوت کرتا رہے، کیونکہ اگر وہ اسے پڑھنا ترک کر دے گا، تو بھول جائے گا پھر اس کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المسافرین 32 (789)، سنن الترمذی/القراء ات 100 (2942)، (تحفة الأشراف: 7546)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل القرآن 23 (5031)، سنن النسائی/الافتتاح 37 (943)، موطا امام مالک/القرآن 4 (6)، مسند احمد (2/17، 23، 30، 64، 112) (صحیح)