سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3737
Sunan Ibn Majah 3737
کتاب #34: کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
33: بَابُ : الْجَمْعِ بَيْنَ اسْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنْيَتِهِ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور کنیت ایک ساتھ رکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ , فَنَادَى رَجُلٌ رَجُلًا يَا أَبَا الْقَاسِمِ , فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَسَمَّوْا بِاسْمِي , وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقبرہ بقیع میں تھے کہ ایک شخص نے دوسرے کو آواز دی : اے ابوالقاسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی جانب متوجہ ہوئے ، تو اس نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو مخاطب نہیں کیا ، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ میرے نام پر نام رکھو ، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3737]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 727)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 49 (2120)، المناقب 20 (3537)، صحیح مسلم/الآداب 1 (2131)، سنن الترمذی/الأدب 68 (2841) (صحیح)