سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3707
Sunan Ibn Majah 3707
کتاب #34: کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
17: بَابُ : الاِسْتِئْذَانِ
باب: (گھر کے اندر داخل ہونے کے لیے) اجازت لینے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ وَاصِلِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي سَوْرَةَ , عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ , قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا السَّلَامُ , فَمَا الِاسْتِئنَاسُ؟ قَالَ: " يَتَكَلَّمُ الرَّجُلُ تَسْبِيحَةً , وَتَكْبِيرَةً , وَتَحْمِيدَةً , وَيَتَنَحْنَحُ , وَيُؤْذِنُ أَهْلَ الْبَيْتِ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! سلام تو ہمیں معلوم ہے ، لیکن «استئذان» کیا ہے ؟ ( یعنی ہم اجازت کیسے طلب کریں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «استئذان» یہ ہے کہ آدمی تسبیح ، تکبیر اور تحمید ( یعنی «سبحان الله ، الله أكبر ، الحمد لله» کہہ کر یا کھنکار کر ) سے گھر والوں کو خبردار کرے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3707]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ واصل بن السائب وأبوسورة:ضعيفان (تقريب: 7383،ضعيف) والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 510
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3498، ومصباح الزجاجة: 1292) (ضعیف) (سند میں ابوسورہ منکر الحدیث ہے)