سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 370
Sunan Ibn Majah 370
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
33: بَابُ : الرُّخْصَةِ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی رخصت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " اغْتَسَلَ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَفْنَةٍ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَغْتَسِلَ، أَوْ يَتَوَضَّأَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا، قَالَ: " الْمَاءُ لَا يُجْنِبُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی نے لگن سے غسل کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، اور اس بچے ہوئے پانی سے غسل یا وضو کرنا چاہا تو وہ بولیں : اے اللہ کے رسول ! میں ناپاک تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی ناپاک نہیں ہوتا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 370]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جنبی مرد یا عورت اگر برتن میں ہاتھ دھو کر یا ہاتھ وغیرہ ڈال دیں یا اس میں سے نکال کر استعمال کریں تو باقی پانی ناپاک نہیں ہوتا، اس سے معلوم ہوا کہ عورت کے غسل سے بچے ہوئے پانی سے وضو اور غسل جائز ہے تو وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو بدرجہ اولیٰ جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (68) ترمذي (65) نسائي (326) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 391
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 35 (68)، سنن الترمذی/الطہارة 48 (65)، سنن النسائی/المیاة (326)، (تحفة الأشراف: 6103)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/235، 284، 308، 337)، سنن الدارمی/الطہارة 57 (762) (صحیح)