سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3698
Sunan Ibn Majah 3698
کتاب #34: کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
13: بَابُ : رَدِّ السَّلاَمِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ
باب: ذمیوں کے سلام کے جواب کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ مُسْلِمٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ , فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ , فَقَالَ: " وَعَلَيْكُمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ یہودی آئے ، اور کہا : «السام عليك يا أبا القاسم» ” اے ابوالقاسم تم پر موت ہو “ ، تو آپ نے ( جواب میں صرف ) فرمایا : «وعليكم» اور تم پر بھی ہو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3698]
💡 وضاحت:
۱؎: ابو القاسم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ہے۔
۲؎: یہ ان یہودیوں کی شرارت تھی کہ «سلام» کے بدلے «سام» کا لفظ استعمال کیا، «سام» کہتے ہیں موت کو تو «السام علیک» کے معنی یہ ہوئے کہ تم مرو، اور ہلاک ہو، جو بدعا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں صرف «وعلیک» فرمایا، یعنی تم ہی مرو، جب کوئی کافر سلام کرے، تو جواب میں صرف «وعلیک» کہے۔
۲؎: یہ ان یہودیوں کی شرارت تھی کہ «سلام» کے بدلے «سام» کا لفظ استعمال کیا، «سام» کہتے ہیں موت کو تو «السام علیک» کے معنی یہ ہوئے کہ تم مرو، اور ہلاک ہو، جو بدعا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں صرف «وعلیک» فرمایا، یعنی تم ہی مرو، جب کوئی کافر سلام کرے، تو جواب میں صرف «وعلیک» کہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/السلام 4 (2165)، (تحفة الأشراف: 17641)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 98 (2935)، والأدب 35 (6024)، الاستئذان 22 (6256)، الدعوات 57 (6391)، الاستتابة المرتدین 4 (6927)، سنن الترمذی/الاستئذان 12 (271)، مسند احمد (6/229) (صحیح)