سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 367
Sunan Ibn Majah 367
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
32: بَابُ : الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
باب: بلی کے جھوٹے سے وضو کے جائز ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ بَعْضِ وَلَدِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهَا صَبَّتْ لِأَبِي قَتَادَةَ مَاءً يَتَوَضَّأُ بِهِ، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَةَ أَخِي أَتَعْجَبِينَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ، أَوِ الطَّوَّافَاتِ".
کبشہ بنت کعب رضی اللہ عنہما جو ابوقتادہ کی بہو تھیں کہتی ہیں کہ انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے وضو کے لیے پانی نکالا تو ایک بلی آئی اور اس میں سے پینے لگی ، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے برتن جھکا دیا ، میں ان کی جانب حیرت سے دیکھنے لگی تو انہوں نے کہا : بھتیجی ! تمہیں تعجب ہو رہا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” بلی ناپاک نہیں ہے وہ گھروں میں گھومنے پھرنے والوں یا والیوں میں سے ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 367]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 38 (75)، سنن الترمذی/الطہارة 69 (92)، سنن النسائی/الطہارة 54 (68)، (تحفة الأشراف: 12141)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 3 (13)، مسند احمد (5/296، 303، 309)، سنن الدارمی/الطہارة 58 (763) (صحیح)