سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3667
Sunan Ibn Majah 3667
کتاب #34: کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
3: بَابُ : بِرِّ الْوَالِدِ وَالإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ
باب: باپ کو اپنے بچوں خاص کر بیٹیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ , سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ , عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ؟ ابْنَتُكَ مَرْدُودَةً إِلَيْكَ لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ".
سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تم کو افضل صدقہ نہ بتا دوں ؟ اپنی بیٹی کو صدقہ دو ، جو تمہارے پاس آ گئی ہو ۱؎ ، اور تمہارے علاوہ اس کا کوئی کمانے والا بھی نہ ہو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3667]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی شوہر کی موت یا طلاق کی وجہ سے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ علته الإنقطاع بين سراقة وعُلَيّ كما صرح به البوصيري وغيره ¤ فالسند منقطع ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 508
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3821، ومصباح الزجاجة: 1275)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/175) (ضعیف) (علی بن رباح کا سماع سراقہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے اس لئے سند میں انقطاع ہے)