سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3658
Sunan Ibn Majah 3658
کتاب #34: کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
1: بَابُ : بِرِّ الْوَالِدَيْنِ
باب: ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: " أُمَّكَ" , قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " أُمَّكَ" , قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " أَبَاكَ" , قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " الْأَدْنَى فَالْأَدْنَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہاری ماں “ ، پھر پوچھا : اس کے بعد کون ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہاری ماں “ ، پھر پوچھا اس کے بعد کون ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا باپ “ ، پھر پوچھا : اس کے بعد کون حسن سلوک ( اچھے برتاؤ ) کا سب سے زیادہ مستحق ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر جو ان کے بعد تمہارے زیادہ قریبی رشتے دار ہوں ، پھر اس کے بعد جو قریبی ہوں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3658]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه ¤ ح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14920، ومصباح الزجاجة: 1270)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 2 (5971 تعلیقاً)، صحیح مسلم/البر والصلة 1 (2548)، مسند احمد (2/391) (صحیح)