سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3650
Sunan Ibn Majah 3650
کتاب #33: کتاب: لباس کے متعلق احکام و مسائل
44: بَابُ : الصُّوَرِ فِي الْبَيْتِ
باب: گھر میں تصاویر رکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3650]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی رحمت کے فرشتے جو مسلمان اور سچے مومنوں کے پاس شوق اور محبت کی وجہ سے آتے ہیں وہ اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں کتا یا مورت ہو، مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو ان چیزوں سے نفرت ہے اور اس کا یہ قطعاً مطلب نہیں کہ جہاں کتا یا مورت ہو وہاں فرشتہ مطلق داخل ہی نہیں ہوتا، اگرچہ اس کو حکم دے دیا گیا ہو، ورنہ لازم آتا ہے جس کوٹھری میں کتا یا تصویر ہو وہاں کوئی نہ مرے کیونکہ موت کا فرشتہ اس کوٹھری کے اندر نہ آ سکے گا، واضح رہے یہ فرشتوں کے شوق و محبت سے اور اللہ کی رحمت لے کر گھر میں داخل ہونے کی بات ہے ورنہ جب ان کو حکم الہی ہوتا ہے تو کتا اور مورت کیا پاخانہ اور غلاظت خانہ میں بھی جا کر روح قبض کر لیتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 90 (227)، اللباس 48 (4152)، سنن النسائی/الطہارة 168 (262)، الصید 11 (4286)، (تحفة الأشراف: 10291)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/83، 104)، سنن الدارمی/الاستئذان 34 (2705) (صحیح)