سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3636
Sunan Ibn Majah 3636
کتاب #33: کتاب: لباس کے متعلق احکام و مسائل
37: بَابُ : كَرَاهِيَةِ كَثْرَةِ الشَّعَرِ
باب: بڑے بال رکھنے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , وَسُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ , قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي شَعَرٌ طَوِيلٌ , فَقَالَ: " ذُبَابٌ ذُبَابٌ" , فَانْطَلَقْتُ فَأَخَذْتُهُ , فَرَآنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ وَهَذَا أَحْسَنُ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا کہ میرے بال لمبے ہیں تو فرمایا : ” منحوس ہے منحوس “ ، یہ سن کر میں چلا آیا ، اور میں نے بالوں کو چھوٹا کیا ، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا : ” میں نے تم کو نہیں کہا تھا ، ویسے یہ بال زیادہ اچھے ہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3636]
💡 وضاحت:
۱؎: بال زیادہ لمبا رکھنے سے ایک تو عورت سے مشابہت ہوتی ہے، دوسرے ان کے دھونے اور کنگھی کرنے میں تکلیف ہوتی ہے، اس لئے آپ نے لمبے بالوں کو مکروہ اور منحوس جانا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الترجل 11 (4190)، سنن النسائی/الزینة 6 (5055)، (تحفة الأشراف: 11782) (صحیح الإسناد)