سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 363
Sunan Ibn Majah 363
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
31: بَابُ : غَسْلِ الإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ
باب: جس برتن میں کتا منہ ڈال دے اس کے دھونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَضْرِبُ جَبْهَتَهُ بِيَدِهِ، وَيَقُولُ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ، أَنْتُمْ تَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيَكُونَ لَكُمُ الْمَهْنَأُ وَعَلَيَّ الْإِثْمُ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ".
ابورزین کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی پیشانی پہ ہاتھ مارتے ہوئے کہا : اے عراق والو ! تم یہ سمجھتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھتا ہوں تاکہ تم فائدے میں رہو اور میرے اوپر گناہ ہو ، میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوئے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 363]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیح احادیث سے سات بار دھونا ہی ثابت ہے، تین بار دھونے کی روایت معتبر نہیں ہے، بعض لوگوں نے اسے بھی دیگر نجاستوں پر قیاس کیا ہے، اور کہا ہے کہ کتے کے برتن میں منہ ڈال دینے پر برتن تین بار دھونے سے پاک ہو جائے گا، لیکن اس قیاس سے نص کی یا ضعیف حدیث سے صحیح حدیث کی مخالفت ہے جو درست نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ أبو معاوية مدلس وعنعن ¤ وكذا شيخه الأعمش عنعن ¤ والمرفوع صحيح انظر صحيح مسلم (279) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 390
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 27 (279)، سنن النسائی/الطہارة 52 (66)، المیاہ 6 (336)، 7 (339، 340)، (تحفة الأشراف: 12441، 14607)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 34 (172)، سنن ابی داود/الطہارة 37 (71)، سنن الترمذی/الطہارة 68 (91)، موطا امام مالک/الطہارة 6 (35)، مسند احمد (2/245، 265، 271، 314، 360، 358، 424، 427، 440، 480، 482، 508) (صحیح)