سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3603
Sunan Ibn Majah 3603
کتاب #33: کتاب: لباس کے متعلق احکام و مسائل
21: بَابُ : كَرَاهِيَةِ الْمُعَصْفَرِ لِلرِّجَالِ
باب: مردوں کے لیے پیلے کپڑے پہننے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ثَنِيَّةِ أَذَاخِرَ , فَالْتَفَتَ إِلَيَّ وَعَلَيَّ رَيْطَةٌ مُضَرَّجَةٌ بِالْعُصْفُرِ , فَقَالَ: " مَا هَذِهِ؟" , فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ , فَأَتَيْتُ أَهْلِي وَهُمْ يَسْجُرُونَ تَنُّورَهُمْ فَقَذَفْتُهَا فِيهِ , ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنَ الْغَدِ , فَقَالَ: " يَا عَبْدَ اللَّهِ , مَا فَعَلَتِ الرَّيْطَةُ" , فَأَخْبَرْتُهُ , فَقَالَ: " أَلَا كَسَوْتَهَا بَعْضَ أَهْلِكَ , فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ لِلنِّسَاءِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم اذاخر ۱؎ کے موڑ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے ، آپ میری طرف متوجہ ہوئے ، میں باریک چادر پہنے ہوئے تھا جو کسم کے رنگ میں رنگی ہوئی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” یہ کیا ہے “ ؟ میں آپ کی اس ناگواری کو بھانپ گیا ، چنانچہ میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا ، وہ اس وقت اپنا تنور گرم کر رہے تھے ، میں نے اسے اس میں ڈال دیا ، دوسری صبح میں آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عبداللہ ! چادر کیا ہوئی “ ؟ میں نے آپ کو ساری بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دی ؟ اس لیے کہ اسے پہننے میں عورتوں کے لیے کوئی مضائقہ نہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3603]
💡 وضاحت:
۱؎: اذاخر: مکہ و مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/اللباس20 (4066)، (تحفة الأشراف: 8811)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/164، 196) (حسن)