سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 359
Sunan Ibn Majah 359
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
29: بَابُ : مَنْ دَلَكَ يَدَهُ بِالأَرْضِ بَعْدَ الاِسْتِنْجَاءِ
باب: استنجاء کے بعد زمین پر ہاتھ رگڑ کر دھونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ الْغَيْضَةَ فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَأَتَاهُ جَرِيرٌ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ فَاسْتَنْجَى مِنْهَا، وَمَسَحَ يَدَهُ بِالتُّرَابِ".
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم درختوں کی ایک جھاڑی میں داخل ہوئے ، اور قضائے حاجت کی ، جریر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک برتن لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے استنجاء کیا ، اور اپنا ہاتھ مٹی سے رگڑ کر دھویا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 359]
💡 وضاحت:
۱؎: تاکہ ہاتھ اچھی طرح سے صاف ہو جائے، اور نجاست کا اثر کلی طور پر زائل اور ختم ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ إبراهيم بن جرير صدوق لكنه لم يسمع من أبيه ¤ و الحديث السابق (الأصل: 358) يغني عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 390
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الطہارة 43 (51)، (تحفة الأشراف: 3207)، وقد أخرجہ: دی/الطہارة 16 (706) (حسن) (اس حدیث کی سند میں مذکور راوی ''ابراہیم'' کا سماع ان کے والد جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: اوپر کی حدیث نمبر: 358، وصحیح ابی داود: 35)