سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 332
Sunan Ibn Majah 332
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
22: بَابُ : التَّبَاعُدِ لِلْبَرَازِ فِي الْفَضَاءِ
باب: قضائے حاجت کے لیے میدان میں دور جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَتَنَحَّى لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، آپ قضائے حاجت کے لیے الگ تھلگ ہوئے پھر واپس آئے ، وضو کے لیے پانی مانگا اور وضو کیا ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 332]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف لضعف (عمر بن المثني) الأشجعي وقال أبو زرعة: عطاء لم يسمع من أنس“ ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1092، ومصباح الزجاجة: 137) (صحیح) (سند میں ضعف ہے، اس لئے کہ عمر بن المثنی الاشجعی الرقی مستور اور عطاء خراسانی تدلیس و ارسال کرنے والے ہیں، اور ان کی روایت عنعنہ سے ہے، نیز ان کا سماع انس رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 33)