سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 327
Sunan Ibn Majah 327
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
20: بَابُ : مَنْ بَالَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً
باب: پیشاب کر کے پانی استعمال نہ کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى التَّوْأَمِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبُولُ فَاتَّبَعَهُ عُمَرُ بِمَاءٍ، فَقَالَ: " مَا هَذَا يَا عُمَرُ؟" قَالَ: مَاءٌ، قَالَ: " مَا أُمِرْتُ كُلَّمَا بُلْتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ وَلَوْ فَعَلْتُ لَكَانَتْ سُنَّةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کے لیے باہر تشریف لے گئے ، اور عمر رضی اللہ عنہ پیچھے سے پانی لے کر پہنچے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : عمر یہ کیا ہے ؟ کہا : پانی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں ، تو وضو کروں ، اور اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت واجبہ بن جائے گی “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 327]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پیشاب کے بعد وضو کرنا ضروری نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (42) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 388
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 22 (42)، (تحفة الأشراف: 17982)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/95) (ضعیف) (تراجع الألبانی، رقم: 296، حدیث کی سند میں عبد اللہ بن یحییٰ التوام ضعیف ہیں)