سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 325
Sunan Ibn Majah 325
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
18: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فِي الْكُنُفِ وَإِبَاحَتِهِ دُونَ الصَّحَارَى
باب: صحراء و میدان کے علاوہ پاخانہ میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاق ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ"، فَرَأَيْتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ بِعَامٍ يَسْتَقْبِلُهَا.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ہم پیشاب کرنے کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں ، پھر آپ کے انتقال سے ایک سال پہلے میں نے دیکھا قضائے حاجت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ قبلہ کی طرف ہے ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 325]
💡 وضاحت:
۱؎: جابر رضی اللہ عنہ یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ ممانعت صحراء اور «بنیان» (آبادی) دونوں کو عام تھی، اسی وجہ سے انہوں نے اسے نسخ پر محمول کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری فعل سے ممانعت منسوخ ہو گئی، اگر ممانعت کو صحراء و میدان کے ساتھ خاص مان لیا جائے تو نہ دونوں فعلوں میں تعارض ہو گا، اور نہ ہی ناسخ منسوخ ماننے کی ضرورت پڑے گی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 5 (13)، سنن الترمذی/الطہارة 7 (9)، (تحفة الأشراف: 2574)، مسند احمد (3/360) (حسن)