سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 318
Sunan Ibn Majah 318
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
17: بَابُ : النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ
باب: پیشاب اور پاخانے میں قبلہ کی طرف منہ کرنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الَّذِي يَذْهَبُ إِلَى الْغَائِطِ الْقِبْلَةَ"، وَقَالَ: " شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا ، اور فرمایا : ” مشرق ( پورب ) کی طرف منہ کرو ، یا پچھم کی طرف “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 318]
💡 وضاحت:
۱؎: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اہل مدینہ یا ان لوگوں کے لئے تھا، جن کا قبلہ اتر یا دکھن کو تھا، مسلمان کو قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کے لئے نہ بیٹھنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 11 (144)، الصلاة 29 (394)، صحیح مسلم/الطہارة 17 (264)، سنن ابی داود/الطہارة 4 (9)، سنن الترمذی/الطہارة 6 (8)، سنن النسائی/الطہارة 20 (21)، 21 (22)، (تحفة الأشراف: 3478)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القبلة 1 (1)، مسند احمد (5/416، 417، 421)، سنن الدارمی/الطہارة 6 (691) (صحیح)