سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3173
Sunan Ibn Majah 3173
کتاب #28: کتاب: ذبیحہ کے احکام و مسائل
4: بَابُ : التَّسْمِيَةِ عِنْدَ الذَّبْحِ
باب: ذبح کے وقت بسم اللہ کہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ سورة الأنعام آية 121، قَالَ: " كَانُوا يَقُولُونَ مَا ذُكِرَ عَلَيْهِ اسْمُ اللَّهِ فَلَا تَأْكُلُوا، وَمَا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوهُ"، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ آیت کریمہ : «إن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم» ( سورة الأنعام : 121 ) کی تفسیر میں کہتے ہیں : ان کی وحی یہ تھی کہ جس ( ذبیحہ ) پر اللہ کا نام لیا جائے اس کو مت کھاؤ ، اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے کھاؤ ، تو اللہ عزوجل نے فرمایا : «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے نہ کھاؤ “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3173]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان سے گوشت لے لینا جائز ہے، اگرچہ یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا تھا یا نہیں کیونکہ مسلمان کی ظاہری حالت امید دلاتی ہے کہ اس نے اللہ تعالی کا نام ضرور لیا ہو گا، البتہ مشرک سے گوشت لینا جائز نہیں جب تک اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے، اگر دیکھے نہیں لیکن مشرک یہ کہے کہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے تو اس کا لینا جائز ہے، بشرطیکہ یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مردار ہے «منخنقہ» وغیرہ ورنہ ہرگز جائز نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (2818) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأضاحي 13 (2818)، (تحفة الأشراف: 6111)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الضحایا 40 (4448) (صحیح)