سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3168
Sunan Ibn Majah 3168
کتاب #28: کتاب: ذبیحہ کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا فَرَعَةَ وَلَا عَتِيرَةَ"، قَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: وَالْفَرَعَةُ: أَوَّلُ النَّتَاجِ، وَالْعَتِيرَةُ: الشَّاةُ يَذْبَحُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ فِي رَجَبٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہ فرعہ ہے اور نہ عتیرہ “ ( یعنی واجب اور ضروری نہیں ہے ) ، ہشام کہتے ہیں : فرعہ : جانور کے پہلوٹے بچے کو کہتے ہیں ، ۱؎ اور عتیرہ : وہ بکری ہے جسے گھر والے رجب میں ذبح کرتے ہیں ۲؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3168]
💡 وضاحت:
۱؎: جاہلیت میں اونٹنی کے پہلوٹے بچے کو لوگ اپنے معبودوں کے نام پر ذبح کر دیا کرتے تھے اسے فرعہ کہتے تھے۔
۲؎: اسے رجبیہ بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ جانور جسے رجب کے مہینے میں ایک خاص نیت و ارادہ سے ذبح کیا جائے۔
۲؎: اسے رجبیہ بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ جانور جسے رجب کے مہینے میں ایک خاص نیت و ارادہ سے ذبح کیا جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العقیقة 4 (5474)، صحیح مسلم/الأضاحي 6 (1976)، سنن ابی داود/الأضاحي 20 (2831)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة (4227)، (تحفة الأشراف: 13127)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأضاحي 15 (1512)، مسند احمد (2/239، 254، 285)، سنن الدارمی/الأضاحي 8 (2007) (صحیح)