سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 313
Sunan Ibn Majah 313
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
16: بَابُ : الاِسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ وَالنَّهْيِ عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّةِ
باب: پتھر سے استنجاء کے جواز اور گوبر اور ہڈی سے ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ، أُعَلِّمُكُمْ إِذَا أَتَيْتُمُ الْغَائِطَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَأَمَرَ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ، وَالرِّمَّةِ، وَنَهَى أَنْ يَسْتَطِيبَ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہارے لیے ایسا ہی ہوں جیسے باپ اپنے بیٹے کے لیے ، میں تمہیں تعلیم دیتا ہوں کہ جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلے کی طرف منہ اور پیٹھ نہ کرو “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین پتھروں سے استنجاء کرنے کا حکم دیا ، اور گوبر اور ہڈی سے ، اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع کیا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 313]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض روایتوں میں تین سے کم پتھر پر اکتفا کرنے سے منع کیا گیا ہے جس سے تین پتھر کے استعمال کا وجوب ثابت ہوتا ہے، بعض احادیث میں اس ممانعت کی علت یہ بتائی گئی ہے کہ یہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے، نیز یہاں «رمَّۃ» (بوسیدہ ہڈی) سے مراد مطلق ہڈی ہے جیسا کہ دوسری روایتوں میں آتا ہے، یا یہ کہا جائے کہ بوسیدہ ہڈی جو نجس نہیں ہوتی، جب اسے نجاست سے آلودہ کرنے کی ممانعت ہے تو وہ ہڈی جو بوسیدہ نہ ہو بدرجہ اولیٰ ممنوع ہو گی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطہارة 4 (8)، سنن النسائی/الطہارة 36 (40)، (تحفة الأشراف: 12859)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 247، 250) (حسن صحیح)