سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3109
Sunan Ibn Majah 3109
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
103: . بَابُ : فَضْلِ مَكَّةَ
باب: مکہ کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَامَ الْفَتْحِ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا يَأْخُذُ لُقْطَتَهَا إِلَّا مُنْشِدٌ"، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَإِنَّهُ لِلْبُيُوتِ وَالْقُبُورِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ".
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے سال خطبہ دیتے ہوئے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! اللہ نے مکہ کو اسی دن حرام قرار دے دیا جس دن اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ، اور وہ قیامت تک حرام رہے گا ، نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے گا ، نہ وہاں کا شکار بدکایا جائے گا ، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے گی ، البتہ اعلان کرنے والا اٹھا سکتا ہے “ ، اس پر عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اذخر ( نامی گھاس ) کا اکھیڑنا جائز فرما دیجئیے کیونکہ وہ گھروں اور قبروں کے کام آتی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا اذخر اکھاڑنا جائز ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3109]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15908، ومصباح الزجاجة: 1076)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 76 (1349 تعلیقاً) (حسن) (ابان بن صالح ضعیف ہیں، لیکن شاہد کی تقویت سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 4 /249)