سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3103
Sunan Ibn Majah 3103
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
100: . بَابُ : رُكُوبِ الْبُدْنِ
باب: ہدی کے اونٹوں کی سواری کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ: " ارْكَبْهَا"، قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: " ارْكَبْهَا وَيْحَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہدی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر سوار ہو جاؤ “ ، اس نے کہا : یہ ہدی کا اونٹ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سوار ہو جاؤ ، تمہارا برا ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3103]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ مخاطب کرنے کا ایک اسلوب ہے، بددعا مقصود نہیں اور سواری کا حکم اس لیے دیا کہ سوار ہونے میں اونٹ کو تکلیف نہیں ہوتی، امام احمد اور اصحاب حدیث کا یہی قول ہے کہ بلا عذر بھی ہدی کے اونٹ پر سوار ہونا جائز ہے، اور شافعی کے نزدیک ضرورت کے وقت جائز ہے، اس سے مقصد یہ تھا کہ مشرکوں کے اعتقاد کا رد کیا جائے جو ہدی کے جانوروں پر سواری کو برا جانتے تھے، اور بحیرہ اور سائبہ کی تعظیم کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13669)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 103 (1689)، 112 (1706)، الوصایا 12 (2755)، الأدب 95 (6160)، صحیح مسلم/الحج 65 (1322)، سنن ابی داود/الحج 18 (1760)، سنن النسائی/الحج 74 (2801)، موطا امام مالک/الحج 45 (139)، مسند احمد (2/254، 278، 312، 464، 474، 478، 481) (صحیح)