سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3073
Sunan Ibn Majah 3073
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
83: بَابُ : الْحَائِضِ تَنْفِرُ قَبْلَ أَنْ تُوَدِّعَ
باب: حائضہ طواف وداع سے پہلے جا سکتی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ، فَقُلْنَا: قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ: " عَقْرَى حَلْقَى، مَا أُرَاهَا إِلَّا حَابِسَتَنَا"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ: " فَلَا إِذًا مُرُوهَا فَلْتَنْفِرْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تو ہم نے کہا : انہیں حیض آ گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «عقرى حلقى» ! میں سمجھتا ہوں اس کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ دسویں کو طواف افاضہ کر چکی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تب تو پھر ہمیں رکنے کی ضرورت نہیں ، اس سے کہو کہ وہ روانہ ہو “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3073]
💡 وضاحت:
۱؎: جب حائضہ طواف افاضہ کر چکی ہو تو طواف وداع اس پر لازم نہیں ہے، اور ہم نے عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما، اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کیا ہے کہ انہوں نے طواف وداع کے لیے حائضہ کو ٹھہرنے کا حکم کیا ہے گویا انہوں نے اس کو طواف افاضہ کی طرح واجب سمجھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 151 (1771)، صحیح مسلم/17 (1211)، (تحفة الأشراف: 15946)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/224، سنن الدارمی/المناسک 73 (1958) (صحیح)