سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3052
Sunan Ibn Majah 3052
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
74: بَابُ : مَنْ قَدَّمَ نُسُكًا قَبْلَ نُسُكٍ
باب: مناسک حج کی تقدیم و تاخیر کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " قَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَوْمَ النَّحْرِ لِلنَّاسِ فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ: لَا حَرَجَ، ثُمَّ جَاءَهُ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ: لَا حَرَجَ، فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ قَبْلَ شَيْءٍ، إِلَّا قَالَ: لَا حَرَجَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دسویں ذی الحجہ کو منیٰ میں لوگوں ( کو حج کے احکام بتانے ) کے لیے بیٹھے ، تو ایک شخص آپ کے پاس آیا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی حرج نہیں “ ، پھر دوسرا شخص آیا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی حرج نہیں “ ، آپ سے اس دن جس چیز کے بارے میں بھی پوچھا گیا جسے کسی چیز سے پہلے کر لیا گیا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا : ” کوئی حرج نہیں “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3052]
💡 وضاحت:
۱؎: صحیحین میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ کے پاس کھڑے تھے، ایک شخص نے آ کر کہا: میں نے رمی سے پہلے بال منڈا دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر لو کچھ حرج نہیں“، دوسرے نے کہا: میں نے رمی سے پہلے ذبح کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر لو کچھ نہیں ہے“، تیسرے نے کہا: میں نے رمی سے پہلے طواف افاضہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمی کر لو کچھ حرج نہیں ہے“، غرض جس چیز کے متعلق اس دن سوال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب کر لو کچھ حرج نہیں“ اور اہل حدیث کا عمل انہی حدیثوں پر ہے، ان اعمال کی اگر تقدیم و تاخیر سہو سے ہو جائے تو کچھ نقصان نہیں، نہ دم لازم آئے گا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2398، ومصباح الزجاجة: 1059)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/326) (حسن صحیح)