سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3030
Sunan Ibn Majah 3030
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
64: بَابُ : مِنْ أَيْنَ تُرْمَى جَمْرَةُ الْعَقَبَةِ
باب: جمرہ عقبہ پر کہاں سے کنکریاں ماری جائیں؟
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: لَمَّا أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ وَاسْتَقْبَلَ الْكَعْبَةَ، وَجَعَلَ الْجَمْرَةَ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ رَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ قَالَ: " مِنْ هَاهُنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ رَمَى، الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ".
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے تو وادی کے نچلے حصے میں گئے ، کعبہ کی طرف رخ کیا ، اور جمرہ عقبہ کو اپنے دائیں ابرو پر کیا ، پھر سات کنکریاں ماریں ، ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے جاتے تھے پھر کہا : قسم اس ذات کی جس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، یہیں سے اس ذات نے کنکری ماری ہے جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3030]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 135 (1747)، 138 (1750)، صحیح مسلم/الحج 50 (1296)، سنن ابی داود/الحج 78 (1974)، سنن الترمذی/الحج 64 (901)، سنن النسائی/الحج 226 (3072)، (تحفة الأشراف: 9382)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/415، 427، 430، 432، 436، 456، 458) (صحیح)