سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3024
Sunan Ibn Majah 3024
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
61: بَابُ : الْوُقُوفِ بِجَمْعٍ
باب: مزدلفہ میں ٹھہرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْحِمْصِيِّ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ رَبَاحٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " غَدَاةَ جَمْعٍ يَا بِلَالُ أَسْكِتِ النَّاسَ أَوْ أَنْصِتِ النَّاسَ"، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَطَوَّلَ عَلَيْكُمْ فِي جَمْعِكُمْ هَذَا، فَوَهَبَ مُسِيئَكُمْ لِمُحْسِنِكُمْ، وَأَعْطَى مُحْسِنَكُمْ مَا سَأَلَ ادْفَعُوا بِاسْمِ اللَّهِ".
بلال بن رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح کو ان سے فرمایا : ” بلال ! لوگوں کو خاموش کرو “ ، پھر فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تم پر بہت فضل کیا ، تمہارے اس مزدلفہ میں تم میں گنہگار کو نیکوکار کے بدلے بخش دیا ، اور نیکوکار کو وہ دیا جو اس نے مانگا ، اب اللہ کا نام لے کر لوٹ چلو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3024]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ قال البوصيري: ”ھذا إسناد ضعيف،أبو سلمة ھذا لا يعرف اسمه وھو مجهول“ وللحديث شواهد كلها ضعيفة ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2048، ومصباح الزجاجة: 1055) (صحیح) (اس سند میں ابوسلمہ الحمصی مجہول ہیں، لیکن انس، عبادہ اور عباس بن مرداس رضی اللہ عنہم کے شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1624)