سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3013
Sunan Ibn Majah 3013
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
56: بَابُ : الدُّعَاءِ بِعَرَفَةَ
باب: عرفات میں دعا کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كِنَانَةَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ السُّلَمِيُّ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِأُمَّتِهِ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ بِالْمَغْفِرَةِ، فَأُجِيبَ: إِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ مَا خَلَا الظَّالِمَ، فَإِنِّي آخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنْهُ، قَالَ: " أَيْ رَبِّ، إِنْ شِئْتَ أَعْطَيْتَ الْمَظْلُومَ مِنَ الْجَنَّةِ، وَغَفَرْتَ لِلظَّالِمِ"، فَلَمْ يُجَبْ عَشِيَّتَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ بِالْمُزْدَلِفَةِ أَعَادَ الدُّعَاءَ، فَأُجِيبَ إِلَى مَا سَأَلَ، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: تَبَسَّمَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنَّ هَذِهِ لَسَاعَةٌ مَا كُنْتَ تَضْحَكُ فِيهَا، فَمَا الَّذِي أَضْحَكَكَ، أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ؟، قَالَ: " إِنَّ عَدُوَّ اللَّهِ إِبْلِيسَ لَمَّا عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اسْتَجَابَ دُعَائِي وَغَفَرَ لِأُمَّتِي، أَخَذَ التُّرَابَ فَجَعَلَ يَحْثُوهُ عَلَى رَأْسِهِ، وَيَدْعُو بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ، فَأَضْحَكَنِي مَا رَأَيْتُ مِنْ جَزَعِهِ".
عباس بن مرداس سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کی مغفرت کی دعا کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب ملا کہ میں نے انہیں بخش دیا ، سوائے ان کے جو ظالم ہوں ، اس لیے کہ میں اس سے مظلوم کا بدلہ ضرور لوں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے رب ! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے اور ظالم کو بخش دے “ ، لیکن اس شام کو آپ کو جواب نہیں ملا ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں صبح کی تو پھر یہی دعا مانگی ، آپ کی درخواست قبول کر لی گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یا مسکرائے ، پھر آپ سے ابوبکرو عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا : ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، یہ ایسا وقت ہے کہ آپ اس میں ہنستے نہیں تھے تو آپ کو کس چیز نے ہنسایا ؟ اللہ آپ کو ہنساتا ہی رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے دشمن ابلیس کو جب معلوم ہوا کہ اللہ نے میری دعا قبول فرما لی ہے ، اور میری امت کو بخش دیا ہے ، تو وہ مٹی لے کر اپنے سر پر ڈالنے لگا اور کہنے لگا : ہائے خرابی ، ہائے تباہی ! جب میں نے اس کا یہ تڑپنا دیکھا تو مجھے ہنسی آ گئی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 3013]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (5234) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 485
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5140، ومصباح الزجاجة: 1053)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب 168 (5234)، مسند احمد (4/14) (ضعیف) (عبد اللہ بن کنانہ مجہول ہیں، اور ان کی حدیث صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 2603)