سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2999
Sunan Ibn Majah 2999
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
48: بَابُ : الْعُمْرَةِ مِنَ التَّنْعِيمِ
باب: تنعیم سے عمرہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ، أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ، فَيُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ".
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ سوار کر کے لے جائیں ، اور انہیں تنعیم سے عمرہ کرائیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2999]
💡 وضاحت:
تنعیم: مسجد الحرام سے تین میل (۵ کلومیٹر) کے فاصلہ پر ایک مقام ہے، جہاں پر اس وقت مسجد عائشہ کے نام سے مسجد تعمیر ہے۔
۲؎: محرم سے مراد شوہر ہے یا وہ شخص جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو مثلاً باپ دادا، نانا، بیٹا، بھائی چچا ماموں، بھتیجا، داماد وغیرہ یا رضاعت سے ثابت ہونے والے رشتہ دار، عمرے کا احرام حرم سے نکل کر باندھنا چاہئے، یہ مقام بہ نسبت اور مقاموں کے قریب ہے، اس لئے آپ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہیں سے عمرہ کرانے کا حکم دیا۔
۲؎: محرم سے مراد شوہر ہے یا وہ شخص جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو مثلاً باپ دادا، نانا، بیٹا، بھائی چچا ماموں، بھتیجا، داماد وغیرہ یا رضاعت سے ثابت ہونے والے رشتہ دار، عمرے کا احرام حرم سے نکل کر باندھنا چاہئے، یہ مقام بہ نسبت اور مقاموں کے قریب ہے، اس لئے آپ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہیں سے عمرہ کرانے کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العمرة 6 (1784)، الجہاد 125 (2985)، صحیح مسلم/الحج 17 (1212)، سنن الترمذی/الحج 91 (934)، (تحفة الأشراف: 9687)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 81 (1995)، مسند احمد (1/197)، سنن الدارمی/المناسک 41 (1904) (صحیح)