سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2988
Sunan Ibn Majah 2988
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
43: بَابُ : السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
باب: صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " إِنْ أَسْعَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَإِنْ أَمْشِ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے ، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے آپ کو ایسا بھی چلتے دیکھا ہے ، اور میں بہت بوڑھا ہوں ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2988]
💡 وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کا یہ مطلب ہے کہ دوڑنا اور معمولی چال سے چلنا دونوں طرح سنت ہے، ا ور اگر چلنا سنت بھی ہو تب بھی چلنے میں میرے لیے حرج نہیں، اس لیے کہ میں ناتواں بوڑھا ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الحج 56 (1904)، سنن الترمذی/الحج 39 (864)، سنن النسائی/الحج 174 (2979)، (تحفة الأشراف: 7379)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 34 (130)، مسند احمد (2/53، 60، 61، 120)، سنن الدارمی/المناسک 25 (1880) (صحیح)