سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2962
Sunan Ibn Majah 2962
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
35: بَابُ : الْمُلْتَزَمِ
باب: ملتزم کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُثَنَّى بْنَ الصَّبَّاحِ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: " طُفْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنَ السَّبْعِ رَكَعْنَا فِي دُبُرِ الْكَعْبَةِ، فَقُلْتُ: أَلَا نَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ، قَالَ: ثُمَّ مَضَى، فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ قَامَ بَيْنَ الْحَجَرِ وَالْبَاب: فَأَلْصَقَ صَدْرَهُ وَيَدَيْهِ وَخَدَّهُ إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
شعیب کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنے دادا ) عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا ، جب ہم سات پھیروں سے فارغ ہوئے ، تو ہم نے کعبہ کے پیچھے طواف کی دو رکعتیں ادا کیں ، میں نے کہا : کیا ہم جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ نہ چاہیں ؟ انہوں نے کہا : میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ، شعیب کہتے ہیں : پھر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے چل کر حجر اسود کا استلام کیا ، پھر حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے ، اور اپنا سینہ ، دونوں ہاتھ اور چہرے کو اس سے چمٹا دیا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2962]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ سنن أبي داود (1899) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 484
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/المناسک 55 (1899)، (تحفة الأشراف: 8776) (حسن) (سند میں مثنی بن الصباح ضعیف ہیں، لیکن متابعت اور شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2138)