سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2945
Sunan Ibn Majah 2945
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
27: بَابُ : اسْتِلاَمِ الْحَجَرِ
باب: حجر اسود کے استلام (چومنے یا چھونے) کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " اسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ، ثُمَّ وَضَعَ شَفَتَيْهِ عَلَيْهِ يَبْكِي طَوِيلًا، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَإِذَا هُوَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَبْكِي، فَقَالَ يَا عُمَرُ: هَاهُنَا تُسْكَبُ الْعَبَرَاتُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کی طرف رخ کیا ، پھر اپنے دونوں ہونٹ اس پر رکھ دئیے ، اور دیر تک روتے رہے ، پھر ایک طرف نظر اٹھائی تو دیکھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی رو رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ! اس جگہ آنسو بہائے جاتے ہیں “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2945]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ محمد بن عون: متروك (تقريب: 6203) ¤ والسند ضعفه البوصيري ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 483
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8441، ومصباح الزجاجة: 1036) (ضعیف جدا) (سند میں محمد بن عون خراسانی ضعیف الحدیث و منکر الحدیث ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 1111)