سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 293
Sunan Ibn Majah 293
کتاب #2: کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
8: بَابُ : الْفِطْرَةِ
باب: امور فطرت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ، قَصُّ الشَّارِبِ وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَالِاسْتِنْشَاقُ بِالْمَاءِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ يَعْنِي الِاسْتِنْجَاءَ"، قَالَ زَكَرِيَّا: قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دس چیزیں فطرت میں سے ہیں : مونچھوں کے بال تراشنا ، داڑھی بڑھانا ، مسواک کرنا ، ناک میں پانی ڈالنا ، ناخن تراشنا ، انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا ، بغل کے بال اکھیڑنا ، موئے زیر ناف صاف کرنا ، اور پانی سے استنجاء کرنا “ ۔ زکریا نے کہا کہ مصعب کہتے ہیں : میں دسویں چیز بھول گیا ، ہو سکتا ہے وہ کلی کرنا ہو ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 293]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطہارة 16 (261)، سنن ابی داود/الطہارة 29 (53)، سنن الترمذی/الأدب 14 (2757)، سنن النسائی/الزینة 1 (5043)، (تحفة الأشراف: 16188)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/137) (حسن)