سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2914
Sunan Ibn Majah 2914
کتاب #26: کتاب: حج و عمرہ کے احکام و مسائل
13: بَابُ : مَوَاقِيتِ أَهْلِ الآفَاقِ
باب: مکہ سے باہر رہنے والوں کی میقات کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ"، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَمَّا هَذِهِ الثَّلَاثَةُ، فَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اہل مدینہ ذو الحلیفہ سے تلبیہ پکاریں اور احرام باندھیں ، اہل شام جحفہ سے ، اور اہل نجد قرن سے ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رہیں یہ تینوں ( میقاتیں ) تو انہیں میں نے ( براہ راست ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، اور مجھے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اہل یمن یلملم سے تلبیہ پکاریں ، ( اور احرام باندھیں ) “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2914]
💡 وضاحت:
۱؎: میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر کو احرام باندھنا اور تلبیہ پکارنا ضروری ہوتا ہے، البتہ حاجی یا معتمر مکہ میں یا میقات کے اندر رہ رہا ہو تو اس کے لیے گھر سے نکلتے وقت احرام باندھ لینا ہی کافی ہے میقات پر جانا ضروری نہیں۔ اور یلملم ایک پہاڑی ہے جو مکہ سے دو منزل پر ہے، برصغیر (ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش) سے بحری جہاز سے آنے والے لوگ اس کے «محاذاۃ» سے احرام باندھتے اورتلبیہ پکارتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 53 (133)، الحج 5 (1522)، 8 (1525، 10 (1528)، صحیح مسلم/الحج 2 (1182)، سنن ابی داود/الحج 9 (1737)، سنن النسائی/الحج 17 (2652)، (تحفة الأشراف: 8326)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 8 (22)، مسند احمد (2/48، 55، 65)، سنن الدارمی/المناسک 5 (1831) (صحیح)