سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2726
Sunan Ibn Majah 2726
کتاب #24: کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
5: بَابُ : الْكَلاَلَةِ
باب: کلالہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ خَطِيبًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ خَطَبَهُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: " إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا هُوَ أَهَمُّ إِلَيَّ مِنْ أَمْرِ الْكَلَالَةِ وَقَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْءٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهَا حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي جَنْبِي أَوْ فِي صَدْرِي ثُمَّ قَالَ: " يَا عُمَرُ تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي نَزَلَتْ فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ".
معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ، یا خطبہ دیا ، تو اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا : اللہ کی قسم ! میں اپنے بعد کلالہ ( ایسا مرنے والا جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا ) کے معاملے سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں چھوڑ رہا ہوں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قدر سختی سے جواب دیا کہ ویسی سختی آپ نے مجھ سے کبھی نہیں کی یہاں تک کہ اپنی انگلی سے میری پسلی یا سینہ میں ٹھوکا مارا پھر فرمایا : ” اے عمر ! تمہارے لیے آیت صیف «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ” آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں : آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ ( خود ) تمہیں کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے “ ( سورۃ النساء : ۱۷۶ ) جو کہ سورۃ نساء کے آخر میں نازل ہوئی ، وہی کافی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2726]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الفرائض 2 (1617)، (تحفة الأشراف: 10646)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الفرائض 9 (7)، مسند احمد (1/15، 26، 27، 48) (صحیح)