📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: وصیت کے احکام و مسائل (كتاب الوصايا) 🏷️ باب: باب: وارث کے لیے وصیت ناجائز ہے۔
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2712 Sunan Ibn Majah 2712
کتاب #23: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
6: بَابُ : لاَ وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ
باب: وارث کے لیے وصیت ناجائز ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَإِنَّ رَاحِلَتَهُ لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَإِنَّ لُغَامَهَا لَيَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ لِكُلِّ وَارِثٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ، فَلَا يَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَمَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ أَوْ قَالَ: عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ".
عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس حال میں خطبہ دیا کہ آپ اپنی سواری ( اونٹنی ) پر تھے ، وہ جگالی کر رہی تھی ، اور اس کا لعاب میرے مونڈھوں کے درمیان بہہ رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ہر وارث کے لیے میراث کا حصہ متعین کر دیا ہے ، لہٰذا کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ، بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر اس کی ولادت ہوئی ، اور زنا کرنے والے کے لیے پتھر ہے ، جو شخص اپنے باپ دادا کے علاوہ دوسرے کی طرف نسبت کا دعویٰ کرے یا ( غلام ) اپنے مالک کے علاوہ دوسرے شخص کو مالک بنائے ، تو اس پر اللہ تعالیٰ ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہے ، نہ اس کا نفل قبول ہو گا ، نہ فرض یا یوں کہا کہ نہ فرض قبول ہو گا نہ نفل “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2712]
💡 وضاحت:
۱؎: شروع اسلام میں یہ حکم تھا کہ جب کوئی مرنے لگے اور اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں کے لئے وصیت کرے اور وصیت کے مطابق اس کا مال تقسیم کیا جائے، پھر اللہ تعالی نے ترکہ کی آیتیں اتاریں اور ہر ایک وارث کا حصہ مقرر کر دیا۔ اب وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں رہا کیونکہ اس میں دوسرے وارثوں کا نقصان ہو گا، البتہ اجنبی شخص کے لئے یا جس کو ترکہ میں سے کچھ حصہ نہ ملتا ہو موجودہ وارثوں کے سبب سے وصیت کرنا درست ہے، وہ بھی تہائی مال میں سے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الوصایا 5 (2121مطولاً)، سنن النسائی/الوصایا 4 (3671)، (تحفة الأ شراف: 10731)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/186، 187، 238، 239)، سنن الدارمی/الوصایا 28 (3303) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #2712
2710 2711 2712 2713 2714

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2713 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْن...
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ حجۃ الوداع ک...
#2714 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ، حَدَّثَنَا عَب...
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے نیچے کھڑا تھا ، ا...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ