سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2698
Sunan Ibn Majah 2698
کتاب #23: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
1: بَابُ : هَلْ أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی؟
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أُمِّ مُوسَى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: " كَانَ آخِرُ كَلَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بات یہ تھی : ” نماز کا اور اپنے غلام و لونڈی کا خیال رکھنا “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2698]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی نماز کو اپنے وقت پر شرائط اور اداب کے ساتھ پڑھو، بے وقت مت پڑھو، اور اس میں دیر مت کرو، اور غلاموں اور لونڈیوں کا خیال رکھو کہ ان پر ظلم مت کرو، طاقت سے زیادہ ان سے کام نہ لو، ان کو کھانے پہننے کی تکلیف نہ دو، جو لوگ نماز کا خیال نہیں رکھتے اس کو قضاء کر دیتے ہیں یا جلدی بغیر خشوع و خضوع کے پڑھ لیتے ہیں یا طہارت میں احتیاط نہیں کرتے یا اپنے لونڈی غلام اور خادم پر ظلم و ستم کرتے ہیں وہ کس طرح کے مسلمان ہیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت کا بھی ان کو خیال نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأدب 133 (5156)، (تحفة الأ شراف: 10343)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/78) (صحیح)