سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2678
Sunan Ibn Majah 2678
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ حُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ ابْنَيْ مَسْعُودٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ سَهْلٍ خَرَجُوا يَمْتَارُونَ بِخَيْبَرَ فَعُدِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُتِلَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " تُقْسِمُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ؟"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُقْسِمُ وَلَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ: فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا تَقْتُلَنَا، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ و محیصہ رضی اللہ عنہما اور سہل کے دونوں بیٹے عبداللہ و عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما خیبر کی جانب تلاش رزق میں نکلے ، عبداللہ پر ظلم ہوا ، اور انہیں قتل کر دیا گیا ، اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم کھاؤ اور ( دیت کے ) مستحق ہو جاؤ “ وہ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! جب ہم وہاں حاضر ہی نہیں تھے تو قسم کیوں کر کھائیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو یہود ( قسم کھا کر ) تم سے بری ہو جائیں گے “ وہ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! تب تو وہ ہمیں مار ہی ڈالیں گے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2678]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 8678، ومصباح الزجاجة: 949)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/القسامة 2 (4718) (صحیح) (سند میں حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)۔ لیکن شاہد کی بنا پر صحیح ہے