سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2626
Sunan Ibn Majah 2626
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ عَمْدًا، دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ، فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا، وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ، وَذَلِكَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً، وَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ مَا صُولِحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ وَذَلِكَ تَشْدِيدُ الْعَقْلِ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قصداً کسی کو قتل کر دیا ، تو قاتل کو مقتول کے وارثوں کے حوالہ کر دیا جائے گا ، وہ چاہیں تو اسے قتل کر دیں ، اور چاہیں تو دیت لے لیں ، دیت ( خوں بہا ) میں تیس حقہ ، تیس جذعہ اور چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں ، قتل عمد کی دیت یہی ہے ، اور باہمی صلح سے جو بھی طے پائے وہ مقتول کے ورثاء کو ملے گا ، اور سخت دیت یہی ہے ۔ ۱؎ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2626]
💡 وضاحت:
۱؎: «حقہ» یعنی وہ اونٹنی جو تین سال پورے کر کے چوتھے سال میں داخل ہو گئی ہو۔ «جذعہ» : یعنی وہ اونٹنی جو چار سال پورے کر کے پانچویں میں داخل ہو گئی ہو۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الدیات 18 (4541)، سنن الترمذی/الدیات 1 (1387)، (تحفة الأشراف: 8708)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/178، 182، 183، 184، 185، 186) (حسن)