📖 سنن ابن ماجه • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن ابن ماجه

Sunan Ibn Majah (سُنَنُ ابْنِ مَاجَهْ)
📁 کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل (كتاب الديات) 🏷️ باب: باب: کیا مومن کے قاتل کی توبہ قبول ہے؟
عربی:
اردو:
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2621 Sunan Ibn Majah 2621
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
2: بَابُ : هَلْ لِقَاتِلِ مُؤْمِنٍ تَوْبَةٌ
باب: کیا مومن کے قاتل کی توبہ قبول ہے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَمَّنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَى، قَالَ: وَيْحَهُ وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى، سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَجِيءُ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُتَعَلِّقٌ بِرَأْسِ صَاحِبِهِ، يَقُولُ: رَبِّ سَلْ هَذَا لِمَ قَتَلَنِي؟"، وَاللَّهِ لَقَدْ أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى نَبِيِّكُمْ ثُمَّ مَا نَسَخَهَا بَعْدَ مَا أَنْزَلَهَا".
سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دیا ، پھر توبہ کر لی ، ایمان لے آیا ، اور نیک عمل کیا ، پھر ہدایت پائی ؟ تو آپ نے جواب دیا : افسوس وہ کیسے ہدایت پا سکتا ہے ؟ میں نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے : ” قیامت کے دن قاتل اور مقتول اس حال میں آئیں گے کہ مقتول قاتل کے سر سے لٹکا ہو گا ، اور کہہ رہا ہو گا “ ، اے میرے رب ! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا ؟ اللہ کی قسم ! اس نے تمہارے نبی پر اس ( قتل ناحق کی آیت ) کو نازل کرنے کے بعد منسوخ نہیں کیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2621]
💡 وضاحت:
۱؎: مراد اس آیت سے ہے: «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزآؤه جهنم خالدا فيها وغضب الله عليه ولعنه وأعد له عذابا عظيما» (سورة النساء:93) یعنی جس شخص نے کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دیا تو اس کا بدلہ جہنم ہے، اس میں وہ ہمیشہ رہے گا ایک دوسری آیت جو بظاہر اس کے معارض ہے: «إن الله لا يغفر أن يشرك به ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء ومن يشرك بالله فقد افترى إثما عظيما» (سورة النساء:48) یعنی اللہ تعالی اپنے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والے شخص کو معاف نہیں کرے گا، اور جس کے لئے چاہے اس کے علاوہ گناہ کو معاف کر سکتا ہے، دونوں آیتیں بظاہر متعارض ہیں، علماء نے تطبیق کی صورت یوں نکالی ہے کہ پہلی آیت کو اس صورت پر محمول کریں گے (وضاحت بجانب ادارہ: جب قتل کرنے والا مؤمن کے قتل کو مباح سمجھتا ہو اور بغیر توبہ کے مر جائے تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنمی ہوگا)، ایک جواب یہ دیا جاتا ہے کہ آیت میں «خلود» سے مراد زیادہ عرصہ تک ٹھہرنا ہے ایک نہ ایک دن اسے ضرور جہنم سے نجات ملے گی، یہ بھی جواب دیا جا سکتا ہے کہ آیت میں زجر و توبیخ مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/تحریم الدم 2 (4004)، القسامة 48 (4870)، (تحفة الأشراف: 5432)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/240، 364294) (صحیح)
سنن ابن ماجه • حدیث #2621
2619 2620 2621 2622 2622

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2622 حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْمَاعِيل الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّا...
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ ...
#2622 حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْمَاعِيل الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّا...
اس سند سے بھی ہمام نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2622M]...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ