سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2616
Sunan Ibn Majah 2616
کتاب #22: کتاب: دیت (خون بہا) کے احکام و مسائل
1: بَابُ : التَّغْلِيظِ فِي قَتْلِ مُسْلِمٍ ظُلْمًا
باب: مسلمان کو ناحق قتل کرنے پر وارد وعید کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب بھی کوئی شخص ناحق قتل کیا جاتا ہے ، تو آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے ( قابیل ) پر بھی اس کے گناہ کا ایک حصہ ہوتا ہے ، اس لیے کہ اس نے سب سے پہلے قتل کی رسم نکالی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2616]
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الانبیاء 1 (3335)، الدیات 2 (6867)، الاعتصام 15 (7321)، صحیح مسلم/القسامة 7 (1677)، سنن الترمذی/العلم 14 (2673)، سنن النسائی/تحریم الدم 1 (3990)، (تحفة الأشراف: 9568)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/383، 430، 433) (صحیح)