سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2569
Sunan Ibn Majah 2569
کتاب #21: کتاب: حدود کے احکام و مسائل
16: بَابُ : حَدِّ السَّكْرَانِ
باب: شرابی کی حد کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ سَمِعْتُهُ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : " مَا كُنْتُ أَدِي مَنْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْحَدَّ إِلَّا شَارِبَ الْخَمْرِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّ فِيهِ شَيْئًا، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ جَعَلْنَاهُ نَحْنُ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس پر میں حد جاری کروں ( اگر وہ مر جائے ) تو میں اس کی دیت ادا نہیں کروں گا ، سوائے شرابی کے ، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد نہیں مقرر فرمائی ، بلکہ یہ تو ہماری اپنی مقرر کی ہوئی حد ہے ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2569]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحدود 5 (6778)، صحیح مسلم/الحدود 8 (1707)، سنن ابی داود/الحدود 37 (4486)، (تحفة الأشراف: 10254)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/125، 130) (صحیح)