سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2541
Sunan Ibn Majah 2541
کتاب #21: کتاب: حدود کے احکام و مسائل
4: بَابُ : مَنْ لاَ يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَدُّ
باب: جس پر حد واجب نہیں ہے اس کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ ، يَقُولُ: " عُرِضْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ خُلِّيَ سَبِيلُهُ فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخُلِّيَ سَبِيلِي".
عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ غزوہ قریظہ کے دن ( جب بنی قریظہ کے تمام یہودی قتل کر دیئے گئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے تو جس کے زیر ناف بال اگ آئے تھے اسے قتل کر دیا گیا ، اور جس کے نہیں اگے تھے اسے ( نابالغ سمجھ کر ) چھوڑ دیا گیا ، میں ان لوگوں میں تھا جن کے بال نہیں اگے تھے تو مجھے چھوڑ دیا گیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2541]
💡 وضاحت:
۱؎: عطیہ رضی اللہ عنہ کا تعلق یہود بنی قریظہ سے تھا، غزوہ احزاب کے فوراً بعد اس قبیلے کی غداری اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بعد اس پر چڑھائی کا واقعہ پیش آیا، اس غزوہ میں عطیہ رضی اللہ عنہ دیگر نابالغ بچوں کے ساتھ قتل ہونے سے بچ گئے، اور بعد میں اسلام قبول کیا، ان کا اسلام اور ان کی اسلامی خدمات بہت اعلیٰ درجے کی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الحدود 17 (4404)، سنن الترمذی/السیر 29 (1584)، سنن النسائی/الطلاق 20 (3460)، القطع 14 (4984)، (تحفة الأشراف: 9904)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/310، 383، 5/312، 383) (صحیح)