سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2537
Sunan Ibn Majah 2537
کتاب #21: کتاب: حدود کے احکام و مسائل
3: بَابُ : إِقَامَةِ الْحُدُودِ
باب: حدود کے نفاذ کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ أَبِي شَجَرَةَ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِقَامَةُ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فِي بِلَادِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی ایک حد کا نافذ کرنا اللہ تعالیٰ کی زمین پر چالیس رات بارش ہونے سے بہتر ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2537]
💡 وضاحت:
۱؎: جیسے بارش سے خوشحالی آ جاتی ہے، کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں۔ ایسے ہی رعایا کی زندگی اسلامی حدود کے نافذ کرنے سے ہوتی ہے، مجرمین کو سزا ہوتی ہے لوگوں کے جان و مال محفوظ رہتے ہیں، اور لوگوں کو راحت حاصل ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ سعيد بن سنان الحنفي الحمصي: ”متروك رماه الدار قطني وغيره بالوضع“ (تقريب: 2333) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7381، ومصباح الزجاجة: 899) (حسن) (سند میں سعید بن سنان ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 331)