سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2501
Sunan Ibn Majah 2501
کتاب #18: کتاب: شفعہ کے احکام و مسائل
4: بَابُ : طَلَبِ الشُّفْعَةِ
باب: شفعہ کا مطالبہ۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا شُفْعَةَ لِشَرِيكٍ عَلَى شَرِيكٍ إِذَا سَبَقَهُ بِالشِّرَاءِ وَلَا لِصَغِيرٍ وَلَا لِغَائِبٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شریک کو شریک پر اس وقت شفعہ نہیں رہتا ہے ، جب وہ خریداری میں اس سے سبقت کر جائے ، اسی طرح نہ کم سن ( نابالغ ) کے لیے شفعہ ہے ، اور نہ غائب کے لیے “ ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2501]
💡 وضاحت:
۱؎: مثلاً کسی جائیداد میں زید، عمر اور بکر شریک ہیں،بکر نے اپنا حصہ زید کے ہاتھ بیچ دیا، تو عمر کو زید پر شفعہ کے دعویٰ کا حق حاصل نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف جدا
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف جدًا ¤ انظر الحديث السابق (2500) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 469
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7293، ومصباح الزجاجة: 887) (ضعیف جدا) (سند میں محمد بن الحارث ضعیف راوی ہیں، اور محمد بن عبد الرحمن البیلمانی متہم با لکذب راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4804)