سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2496
Sunan Ibn Majah 2496
کتاب #18: کتاب: شفعہ کے احکام و مسائل
2: بَابُ : الشُّفْعَةِ بِالْجِوَارِ
باب: پڑوس ہونے کی وجہ سے حق شفعہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضٌ لَيْسَ فِيهَا لِأَحَدٍ قِسْمٌ وَلَا شِرْكٌ إِلَّا الْجِوَارُ، قَالَ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ".
شرید بن سوید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایک زمین ہے جس میں کسی کا حصہ نہیں اور نہ کوئی شرکت ہے ، سوائے پڑوسی کے ( تو اس کے بارے میں فرمائیے ؟ ! ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پڑوسی اپنی نزدیکی زمین کا زیادہ حقدار ہے “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2496]
💡 وضاحت:
۱؎: جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث اور اس حدیث میں بظاہر تعارض ہے، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ان دونوں میں تطبیق دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شفعہ کی دو قسمیں ہیں: ایک شعفہ یہ ہے کہ مالک کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ شفیع پر پیش کرے، اور دوسروں پر اسے ترجیح دے، اور اس شفعہ پر قضاء میں وہ مجبور نہ کیا جائے، اور یہی اس پڑوسی کا حق ہے جو شریک نہیں ہے، اور دوسری قسم یہ ہے کہ اس شفعہ پر اسے قضاء میں مجبور کیا جائے گا، اور یہ اس پڑوسی کے حق میں ہے جو شریک بھی ہے، (حجۃ اللہ البالغۃ ۲/۱۱۳)۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/البیوع 107 (4707)، (تحفة الأشراف: 4840) (حسن صحیح)