سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2462
Sunan Ibn Majah 2462
کتاب #17: کتاب: رہن کے احکام و مسائل
11: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي الْمُزَارَعَةِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ
باب: تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی کی رخصت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِطَاوُسٍ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوْ تَرَكْتَ هَذِهِ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، فَقَالَ: أَيْ عَمْرُو إِنِّي أُعِينُهُمْ وَأُعْطِيهِمْ وَإِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخَذَ النَّاسَ عَلَيْهَا عِنْدَنَا، وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا وَلَكِنْ قَالَ: " لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا أَجْرًا مَعْلُومًا".
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے کہا : اے ابوعبدالرحمٰن ! کاش آپ اس بٹائی کو چھوڑ دیتے ، اس لیے کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ، تو وہ بولے : عمرو ! میں ان کی مدد کرتا ہوں ، اور ان کو ( زمین بٹائی پر ) دیتا ہوں ، اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہماری موجودگی میں لوگوں سے ایسا معاملہ کیا ہے ، اور ان کے سب سے بڑے عالم یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا ، بلکہ یوں فرمایا : ” اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو یوں ہی بغیر کرایہ کے دیدے ، تو وہ اس سے بہتر ہے کہ زمین کا ایک معین کرایہ لے ۔“ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2462]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه