سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2459
Sunan Ibn Majah 2459
کتاب #17: کتاب: رہن کے احکام و مسائل
10: بَابُ : مَا يُكْرَهُ مِنَ الْمُزَارَعَةِ
باب: مکروہ مزارعت (بٹائی) کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرٍ ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا رَافِقًا، فَقُلْتُ: مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ"، قُلْنَا نُؤَاجِرُهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالْأَوْسُقِ مِنَ الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ، فَقَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے چچا ظہیر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے جو ہمارے لیے مفید تھا منع فرمایا ، رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ، تو میں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے وہی حق ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم اپنے کھیتوں کو کیا کرتے ہو “ ؟ تو ہم نے عرض کیا : ہم اسے تہائی اور چوتھائی پیداوار پر اور گیہوں یا جو کے چند وسق پر کرائے پر دیتے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا نہ کرو ، تم یا تو خود اس میں کھیتی کرو یا دوسرے کو کھیتی کرنے دو “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2459]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحرث 18 (2339)، صحیح مسلم/البیوع 18 (548)، سنن النسائی/الأیمان المزراعة 2 (3955)، (تحفة الأشراف: 5029)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الأرض 1 (3) (صحیح)