سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2456
Sunan Ibn Majah 2456
کتاب #17: کتاب: رہن کے احکام و مسائل
9: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي كِرَاءِ الأَرْضِ الْبَيْضَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ
باب: خالی زمین کو سونے چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کی رخصت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ لَمَّا سَمِعَ إِكْثَارَ النَّاسِ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا مَنَحَهَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ كِرَائِهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب انہوں نے سنا کہ لوگ زمین کو کرائیے پر دینے کے سلسلے میں کثرت سے گفتگو کر رہے ہیں ، تو «سبحان اللہ» کہہ کر تعجب کا اظہار کیا ، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یوں فرمایا تھا : ” تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کو زمین مفت کیوں نہیں دے دی “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کرائے پر دینے سے منع نہیں کیا ۱؎ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2456]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رافع رضی اللہ عنہ کو حدیث کا مطلب سمجھنے میں دھوکہ ہوا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحرث والمزارعة 10 (2330)، الھبة 35 (2634)، صحیح مسلم/البیوع 21 (1550)، سنن ابی داود/البیوع 31 (3389)، سنن الترمذی/الأحکام 42 (1385)، سنن النسائی/المزراعة 2 (3904)، (تحفة الأشراف: 5735)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/234، 281، 349)، (2342) (صحیح)