سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2427
Sunan Ibn Majah 2427
کتاب #16: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
18: بَابُ : الْحَبْسِ فِي الدَّيْنِ وَالْمُلاَزَمَةِ
باب: قرض کی وجہ سے قید کرنے اور قرض دار کو پکڑے رہنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ الطَّائِفِيُّ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ ، قَالَ وَكِيعٌ: وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ"، قَالَ عَلِيٌّ الطَّنَافِسِيُّ: يَعْنِي عِرْضَهُ شِكَايَتَهُ وَعُقُوبَتَهُ سِجْنَهُ.
شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو قرض ادا کر سکتا ہو اس کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت کو حلال کر دیتا ہے ، اور اس کو سزا ( عقوبت ) پہنچانا جائز ہو جاتا ہے “ ۔ علی طنافسی کہتے ہیں : عزت حلال ہونے کا مطلب ہے کہ قرض خواہ اس کے نادہند ہونے کی شکایت لوگوں سے کر سکتا ہے ، اور عقوبت پہنچانے کے معنیٰ اس کو قید میں ڈال دینے کے ہیں ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2427]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الأقضیة 29 (3628)، سنن النسائی/البیوع 98 (4693)، (تحفة الأشراف: 4838)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/222، 388، 389) (حسن) (سند میں محمد بن میمون مجہول راوی ہیں، جن سے وبر طائفی کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 1434)