سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 2380
Sunan Ibn Majah 2380
کتاب #15: کتاب: ہبہ کے احکام و مسائل
3: بَابُ : الْعُمْرَى
باب: عمریٰ (عمر بھر کے لیے کسی کو کوئی چیز دینے) کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَقَدْ قَطَعَ قَوْلُهُ حَقَّهُ فِيهَا فَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَ وَلِعَقِبِهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس نے کسی کو بطور عمریٰ کوئی چیز دی ، تو وہ جس کو دیا ہے اس کی اور اس کے بعد اس کے اولاد کی ہو جائے گی ، اس نے عمریٰ کہہ کر اپنا حق ختم کر لیا ، اب وہ چیز جس کو عمریٰ دیا گیا اس کی اور اس کے بعد اس کے وارثوں کی ہو گئی “ ۔ [سنن ابن ماجه/حدیث: 2380]
💡 وضاحت:
۱؎: عمریٰ کرنے والے کو اب واپس لینے کا کوئی حق نہیں ہو گا اور نہ ہی اس کا کوئی عذر مقبول ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الھبة 32 (2625)، صحیح مسلم/الھبات 4 (1625)، سنن ابی داود/البیوع 87 (3550، 3552)، سنن الترمذی/الأحکام 15 (1350)، سنن النسائی/االعمريٰ (3772)، (تحفة الأشراف: 3148)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 37 (43)، مسند احمد (3/302، 304، 360، 393، 399) (صحیح)